سینا[1]

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سینے کا کام، سلائی، سیون، سینا سلانا، سلائی کا کام۔ "سپاہیوں کی عورتیں بڑی کارگزار ہوتی تھیں، کاتنا، سینا، پرونا اور ہر قسم کی دستکاریاں جانتی تھیں۔"      ( ١٨٨٧ء، سخندانِ فارسی، ١٢٦:٢ ) ١ - سوئی دھاگے وغیرہ کے ذریعے کپڑے وغیرہ کے ٹکڑوں کو جوڑنا، سلائی کرنا، ٹانکنا۔  ایک تن پہ ہو ریشمی پوشاک ایک سیتا ہو اپنے جیب کے چاک      ( ١٩٥٧ء، نبضِ دوراں، ٢٥١ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل لفظ 'سِو' سے ماخوذ اسم 'سی' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت علامت مصدر 'نا' بڑھانے سے 'سینا' بنا۔ اردو میں بطور مصدر نیز گا ہے بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سینے کا کام، سلائی، سیون، سینا سلانا، سلائی کا کام۔ "سپاہیوں کی عورتیں بڑی کارگزار ہوتی تھیں، کاتنا، سینا، پرونا اور ہر قسم کی دستکاریاں جانتی تھیں۔"      ( ١٨٨٧ء، سخندانِ فارسی، ١٢٦:٢ )

اصل لفظ: سِو
جنس: مذکر